Sad poetry in urdu

 



یہ تو قبول کر مجھے میری کمزوریوں کے ساتھ
یہ پھر چھوڑ دے مجھے میری تنہائی کے ساتھ




نظر اندازِ کا بڑا شوق تھا انکو
ہنے بھی ٹھوف میں انکو اُنہی کا شوق دے دیا.


ملکر بھی اُنسے حسرت اے ملاقات رھ گئی
بادل تو گھر آئے تھے بس برسات رھ گئی




اب میں تھک گئی ہو
ہوا سے کہہ دو مجھے بوجھ دے




سکون کی تلاش میں نکلے تھے ہم
درد بولا اوقات بھول بیٹھے ہوں کیا




میری اداسی مجھ سے روز ملنے آتی ہے
مسکرا کر ہر بار اسے رخصت کر دینا ہوں




پھر سے ایک امید پال بیٹھے ہوں
پھر سے تیرے پتے پر خت ڈال بیٹھے ہوں




جب میں ڈوبا تو سمندر کو بھی حیرت ہوئی
عجیب شخص ہیں کسی کو پکارتا بھی نہی




کیا کیا نہیں کیا میں نے تیری مسکان کے لیے 
پھر بھی اکیلا چھوڑ دیا اسے انجام کے لیے




ایک امید ملی تھی تمہارے آنے سے اب وہ بھی ٹوٹ گئی 
وفاداری کی عادت تھی اب شاید وہ بھی چھوٹ گئی

Comments

Popular posts from this blog

Gove confirms mandatory housebuilding targets for councils will be abolished in face of Tory rebellion – UK politics live

Kotak Mahindra Bank Recruitment 2022 Released for Graduate Candidates And Apply Online